Uncategorized

اللہ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا، سختی کا نہیں

اللہ کریم نے قرآن پاک میں جہاں روزے کی فرضیت کا ذکر فرمایا ہے وہیں پہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے سختی نہیں. اب اگر ظاہری طور پہ دیکھا جائے تو 45 سے 50 ڈگری درجہ حرارت میں 15 سے 16 گھنٹے بھوک اور پیاس برداشت کرنے میں کون سی آسانی ہے. لیکن اگر دوسری طرف روزے کی اصل روح تک پہنچا جائے تو بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ واقع آسانی چاہتا ہے. روزے کے بغیر اتنی دیر بھوکا پیاسا رہا جا سکتا ہے کیا؟ بالکل بھی نہیں . اگر کسی کو شک ہو تو آزما کر دیکھے ، آدھے دن سے پہلے ہی بے ہوش ہو کر گر جائے گا. جب آپ افطاری کر رہے ہوں تو صرف ایک لمحے کے لیے ضرور سوچیں کہ اللہ نے کس قدر آپ کے ساتھ آسانی فرمائی ہے. دوسری طرف میڈیکل سائنس یہ کہتی نظر آئی ہے کہ پورا سال غیر متوازی خوراک کھا نے سے جسمانی نظام جو کچھ غیر متوازن ہونے لگتا ہے تو روزہ ایسی چیز ہے جو اس نظام کو دوبارہ سے متوازن کر دیتا ہے. اجر و ثواب کے اعتبار سے دیکھا جائے تو روزے دار کا خریدار خود اللہ ہے. گناہ سے بچنے میں آسانی ، رحمت کا حقدار بننے میں آسانی، مغفرت و بخشش میں آسانی، اللہ کا قرب حاصل کرنے میں آسانی ، گنتے جائیں تو ایک لمبی فہرست بنے گی. روزہ اصل میں راز ہے بندے اور اللہ کے درمیان.
روزے کے درج بالا فضائل سے ہر صاحب ایمان واقف ہے. لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کل اس عظیم عبادت اور ایک اہم ستون دین کا بھی تمسخر بنایا جاتا ہے، کہیں ارادی طور پہ اور کہیں غیر ارادی طور پہ. پہلے ہی روزے کے دوران سوشل میڈیا پر ایسی ایسی پوسٹ دیکھنے کو ملی ہے کہ بس اللہ معاف فرمائے. کسی کے پیٹ میں تربیلا ڈیم جتنا پانی تھا افطاری کے بعد (بہت تنگ ہوئے ہیں روزے سے .)تو کوئی بار بار یہ بتا رہا تھا کہ کھانے پہ ٹوٹ پڑنے میں کتنی دیر ہے (دل میں ہے خواہش افطاری فقط). کوئی ایک روزے کے بعد ہی کہہ رہا تھا کہ ب 9 2رہ گئے ہیں اور پتا بھی نہیں چلا (جیسے بڑا تیر مار لیا ہو). کوئی مسلمانوں کا حوصلہ بڑھا رہا تھا بار بار (جیسے کوئی مرنے ہی والا ہو)، اس طرح کی اور بھی بہت سی پوسٹیں کی گئیں .
ان سب باتوں سے یہی واضح ہو رہا ہوتا ہے کہ یا تو آپ روزہ رکھ کر اللہ پہ احسان کر رہے ہیں یا پھر آپ بہت تنگ ہیں روزوں سے. تو بھائیوں میرا ایک مشورہ ہے ، کیا ہی اچھا ہو کہ آپ روزہ ہی نہ رکھیں . اگر اتنی ہی تنگی ہے کہ بار بار لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ اب روزے میں یہ حالت ہے اب یہ حالت ہے. افطاری بعد کی یہ حالت ہے، سحری کے وقت یہ حالت ہو جاتی ہے.
کیا یہ روزے کے ساتھ ایک قسم کا مذاق نہیں ہے؟ کیا اس سے روزے کا تقدس پامال نہیں ہوتا؟ اور ہاں اگر واقع روزے سے آپ کو کوئی مشکل بن رہی ہو تو فیس بک پر پوسٹ کرنے کی بجائے ، لوگوں کو بتانے کی بجائے اس کو بتانا چاہیے جو فرما رہا ہے کہ:
“اللہ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا، سختی کا نہیں”
کتنے ہی روزے دار ایسے ہوتے ہیں جن کو بھوک ا ور پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا. کہیں وہ ہم ہی تو نہیں ہیں؟ یارو! ہر چیز مذاق کے لیے نہیں ہوتی. روزہ رحمت ہے اس کی رحمت کا تمسخر نہ بنائیں. اور بڑی چیزیں ہیں مذاق کرنے کو.
تو صاحبو! خدا را اس مقدس اور با برکت عبادت کا تقدس پامال ہونے سے بچائیں . اللہ کریم ہم سب پر اپنے محبوبﷺ کے صدقے اپنا خاص کرم فرمائے .

تحریر: محمداقبال

Punjabi, Qitaha

ساڈیاں کنکاں ہویاں رج

ساڈیاں کنکاں ہویاں رج

اساں فر وی بھکے بھانے

غرضاں گیئاں نیں ودھ

کہڑے پاسے جان نمانے

دھکے نال نا بنو اج

ہسن وڈے ای سیانے

کھاندے سی جد رل مل سبھ

کدی نہیہ سن مکے دانے

Punjabi, Qitaha

چار دناں دی زندگی

چار دناں دی زندگی اے خشیاں نال توں جی لے
یا تے سچ ناں بول یا فر زہر  پیالہ پی لے
اکھیں جو کجھ ویکھیا ای اوہ ناں بول زبانوں
یا تے سولی چڑھ جا یا فر لباں نوں سی لے
اقبال شاہین