Ghazal

Ghazal

مری سبھی یہ عبادت ترے خیال سے ہے
جمال شمس و قمر بھی ترے جمال سے ہے
ہو سکے جو کبھی ممکن تو آ ، خبر خود لے
یہ دل ابھی بھی بچھڑ جانے کے ملال سے ہے
جواب کچھ بھی ہو مجھ کو غرض جواب سے نھیں
مجھے تو بس ا بھی حیرت ترے سوال سے ہے
اگرچہ بار ہا ہی ٹوٹی ہے یہ آس مری
“بہت امید مجھے آنے والے سال سے ہے”
یہ وقت سیل رواں ہی کی مثل جاری ہے
گزشتہ سے نہ ہی آ ئندہ سے ، یہ حال سے ہے
تو مجھ سے کو ئی تعلق بھی رکھ سہی شاہیں
نہ خوف ہجر ، نہ مجھ کو غرض وصال سے ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s