Uncategorized

کبھی آوارہ و بے خانماں عشق
کبھی شاہ شہاں نو شیرواں عشق
کبھی میداں میں آتا ہے زرہ پوش
کبھی عریاں و بے تیؑغ و سناں عشق

کبھی تنہائی کوہ دمن عشق
کبھی سوز و سرور و انجمن عشق
کبھی سرمایہ محراب و منبر
کبھی مولا علی خیبر شکن عشق

( پیرؤ مرشد علامہ محمد اقبال)

“دراصل مجاز بذات خود ایک حقیقت ہے. اور یہ حقیقت اس وقت تک مجاز کہلاتی ہے جب تک رقیب نا گوار گزرے. جس محبت میں رقیب قریب اور ہم سفر ہو وہ عشق حقیقی ہے.” (واصف علی واصف)
عشق کیا ہے؟ عشق کمال انسانیت ، حاصل مذہب ، ایک بلند تریں تجزیہ اور انسانی تلاش کا نام ہے. انسان کا دل اگر عشق سے خالی ہو تو وہ انسان نہیں بلکہ پتھر کا بت ہے.اور اگر عشق کی طاقت کا اندازہ کرنا ہو تو وجہء تخلیق کائنات عشق ہی ہے. میں اسے کم علمی کہوں یا جہالت کے آج زیادہ تر لوگوں نے جنس مخالف کے لیے رونے دھونے اور جان کی بازی لگانے کو ہی عشق کا نام دے رکھا ہے. عشق وہ نعمت ہے جو بندے کو خدا کے قریب کر دیتی ہے. عشق مجازی ہو یا حقیقی گناہ نہیں بلکہ انعام ہے.
اللہ کے بندوں سے عشق ، عشق مجازی ہے. اور عشق حقیقی اس ذات سے عشق ہے جو زمین و آسماں کا خالق و مالک ہے. جس کا نور ذرے ذرے سے عیاں ہو رہا ہے. عشق مجازی عشق حقیقی کی منزل آسان کر دیتا ہے. عشق مجازی کے دریا میں بہنے والا کبھی نا کبھی حقیقت کے سمندر میں اتر جاتا ہے. وہ پہلی ہی جست میں عشق حقیقی کی اس منزل پہ پہنچ جاتا ہے جہاں صوفیاء سالوں کی ریاضت کے بعد بھی نہیں پہنچ پاتے.
عشق مجازی وہ بھٹھی ہے جس سے کندن بنانے کا کام لیا جاتا ہے. انسا ن جب عشق مجازی کے مراحل سے گزرتا ہے تو اسکی ایسی ٹریننگ ہوتی جو اسے عشق حقیقی کی منازل یک لخت طے کرنے میں مدد دیتی ہے. عشق مجازی سے گزرنے والا جانتا ہوتا ہے کہ محبوب کے ناز کیسے اٹھائے جاتے ہیں ، راز و نیاز کیسے کی جاتی ہے، محبوب ناراض ہو تو کیسے منا یا جاتا ہے. محبوب کے محبوب سے بھی محبت کرنی ہے. اسکے کرم کو کرم اور ستم کو بھی کرم سمجھنا ہے، یہ وہ چیزیں ہیں جو عشق مجازی کوٹ کوٹ کر بھر دیتا ہے.
بندہ جب مجازیت کی آگ میں جل کر کندن بن جاتا ہے تو پھر صرف کنکشن تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے. اور ایک شیخ کامل بغیر کسی دیر کے یہ کنکشن اس باقی ذات کے ساتھ جوڑ دیتا ہے جس کے عشق میں فنا ہو کر انسان بقا حاصل کر جاتا ہے.
اور مجازیت اصل میں حقیقت کا ہی ایک رنگ ہے. حقیقت جان بوجھ کر مجاز کے لباس میں نظر آتی ہے. بقول اقبال :
کبھی اے حقیقت منتظر ، نظر آ لباسِ مجاز میں
اقبال بھی حقیقت کو مجاز میں دیکھنا چا ہتے ہیں.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s