Uncategorized

اشکوں کی روانی ہے
کیسی یہ جوانی ہے
زندگی ہے قصہ تو
موت بھی کہانی ہے
غم بھی ہو ،تو غم کیسا
یاں تو ہر شے فانی ہے

Advertisements
Uncategorized

kundooz

میرے چمن کی
نازک کلیاں مسل دی ہیں
ظالم صیاد نے
کہنا اسے
ظلم جتنا بڑھے گا
بدلہ اتنا سخت ہو گا
وقت کے فرعون کو بتا دینا
ابھی کھیل جاری ہے
اب موسی آنے والا ہے
تو غرقِ دریا ہونے والا ہے
اقبال شاہین

29792482_1809071405846927_7517438154618054005_n

Uncategorized

ghazal

قسمت جو ہماری بھی سنور جائے تو اچھا
“یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھا”
بچے بھی ہمارے ہو گئے ہیں جواں اب تو
اس عشق کا نشہ بھی اتر جائے تو اچھا
مجھ کو بھی محبت سے ہے انکار ہی کرنا
وعدوں سے اگر وہ بھی مکر جائے تو اچھا
جینے کا جسے ڈھنگ نہ آیا ہو عمر بھر
وہ شخص اگر جینے سے مر جائے تو اچھا