Ghazal

Ghazal,

لوٹ بھی آئو رات اندھیری ہے
مان بھی جائو رات اندھیری ہے

منتظر تیری اک نظر کے ہیں
جام چھلکائو رات اندھیری ہے

رستہ دشوار , انجاں ہے منزل
مجھ کو سمجھائو رات اندھیری ہے

آج شب تو گزار لینے دے
اس کو بتلا ئو رات اندھیری ہے

پہلو میں آ کے بیٹھ جائو نا !!
اب نہ شر ما ئو رات اندھیری ہے

کن خیالوں میں بیٹھے ہو چپ چا پ
کچھ تو فر ما ئو رات اندھیری ہے

با د لوں کا ابھی بھروسہ نہیں
اس کو سمجھا ئو رات اندھیری ہے

جو ہوا ٹھیک تو نہیں مگر اب
بھول بھی جا ئو رات اندھیری ہے

آج یاں کون آئے گا شاہیں
تم نہ گھبرا ئو رات اندھیری ہے

Advertisements
Ghazal

Ghazal

مری سبھی یہ عبادت ترے خیال سے ہے
جمال شمس و قمر بھی ترے جمال سے ہے
ہو سکے جو کبھی ممکن تو آ ، خبر خود لے
یہ دل ابھی بھی بچھڑ جانے کے ملال سے ہے
جواب کچھ بھی ہو مجھ کو غرض جواب سے نھیں
مجھے تو بس ا بھی حیرت ترے سوال سے ہے
اگرچہ بار ہا ہی ٹوٹی ہے یہ آس مری
“بہت امید مجھے آنے والے سال سے ہے”
یہ وقت سیل رواں ہی کی مثل جاری ہے
گزشتہ سے نہ ہی آ ئندہ سے ، یہ حال سے ہے
تو مجھ سے کو ئی تعلق بھی رکھ سہی شاہیں
نہ خوف ہجر ، نہ مجھ کو غرض وصال سے ہے

Ghazal

اس کو فقط لبھائے گی ہر جا صدائے گل
بلبل نے اور کچھ نہیں دیکھا سوائے گل
جس روز چمن اجڑا تھا مالی کی شہہ سے
آتی تھی یہ صدا کہیں سے ہائے ہائے گل

تم لوٹ آنا جب کبھی جی چاہے ملنے کو
میں منتظر رہوں گا تمہارا سجائے گل
اتنی سی بات پہ وہ خفا مجھ سے ہو گئے
بس پوچھا تھا خزاں میں کہاں سے ہو لائے گل
اب اور اس خدا سے کیا مانگنا مجھے
اس دور میں بھی خود ہی مرے در پہ آئے گل

Ghazal

Ghazal

سیلاب میرے گائوں میں آیا تھا اور بس
سب کچھ ہی بہہ گیا جو کمایا تھا اور بس
میں نے سبھی وہ آہ و بکا سن تو لی ہی تھی
بزدل ہوں میں, سو خود کو بچایا تھا اور بس
بدنام کروا ئے گا کسی روز دل مجھے
بے پردہ وہ نظر ابھی آیا تھا اور بس
محشر میں اب ملیں گے خدا نے جو چاہا تو
اس نے فقط مجھے یہ بتایا تھا اور بس
میرا وجود پگھلا ہے جو موم کی طرح
اس عشق کو ہی ہاتھ لگایا تھا اور بس

شا ہین میرے   دل میں محبت  بسی رہی
“اک شخص میرے خواب میں آیا تھا اور بس”

Ghazal

Kashmir

بھاری ہے ہر اک ستم پہ حوصلہ کشمیر کا
اب تو منزل پر رکے گا قافلہ کشمیر کا
دیکھنا اک دن ہوں گے انشا ء اللہ کامیاب
روز کم ہوتا ہے کب سے فاصلہ کشمیر کا
آنکھ میری تو چھلکنے لگتی ہے اے ہم نشیں
جب ہو جاتا ہے کہیں بھی تذکرہ کشمیر کا
ہم کو کوئی بھی الگ کر ہی نہیں سکتا کہ
کچھ ہے پاکستاں سے ایسا واسطہ کشمیر کا
جائوں اب میں کس طرف سے دیکھنے جنت شا ہیں
لہو میں ڈوبا ہوا ہے راستہ کشمیر کا

Ghazal

yaar k naam

موروں جیسی چال
ریشم جیسے بال
پھولوں جیسے گال
کچھ ہیں لب بھی لال
اس کے وہ خدوخال
ہاتھوں میں رومال
اوڑھے ہوئے ہے شال
کچھ یوں پھینکا جال
تھی ظالم کی چال
ہنس کے پوچھا حال
تب سے ہم بے حال
اب اس کا ہی خیال
لو اک اور جنجالyaar

Ghazal

غزل

تو بھی ہے بے وفا کبھی سوچا نہ تھا
ہو جائیں گے جدا کبھی سوچا نہ تھا
یوں ہی دیکھا تھا ہم نے مسکرا کر
ہو جائیں گے خفا کبھٰی سوچا نہ تھا
تم چاہو گےیوں کسی کو شدت سے
وہ بھی میرے سوا کبھی سوچا نہ تھا
شاہیں میری یادوں میں بس جائیں گے

صحرا ہوا کبھی سوچا نہ تھا

ghazal