Ghazal

Ghazal,

لوٹ بھی آئو رات اندھیری ہے
مان بھی جائو رات اندھیری ہے

منتظر تیری اک نظر کے ہیں
جام چھلکائو رات اندھیری ہے

رستہ دشوار , انجاں ہے منزل
مجھ کو سمجھائو رات اندھیری ہے

آج شب تو گزار لینے دے
اس کو بتلا ئو رات اندھیری ہے

پہلو میں آ کے بیٹھ جائو نا !!
اب نہ شر ما ئو رات اندھیری ہے

کن خیالوں میں بیٹھے ہو چپ چا پ
کچھ تو فر ما ئو رات اندھیری ہے

با د لوں کا ابھی بھروسہ نہیں
اس کو سمجھا ئو رات اندھیری ہے

جو ہوا ٹھیک تو نہیں مگر اب
بھول بھی جا ئو رات اندھیری ہے

آج یاں کون آئے گا شاہیں
تم نہ گھبرا ئو رات اندھیری ہے

Advertisements
Uncategorized

کبھی آوارہ و بے خانماں عشق
کبھی شاہ شہاں نو شیرواں عشق
کبھی میداں میں آتا ہے زرہ پوش
کبھی عریاں و بے تیؑغ و سناں عشق

کبھی تنہائی کوہ دمن عشق
کبھی سوز و سرور و انجمن عشق
کبھی سرمایہ محراب و منبر
کبھی مولا علی خیبر شکن عشق

( پیرؤ مرشد علامہ محمد اقبال)

“دراصل مجاز بذات خود ایک حقیقت ہے. اور یہ حقیقت اس وقت تک مجاز کہلاتی ہے جب تک رقیب نا گوار گزرے. جس محبت میں رقیب قریب اور ہم سفر ہو وہ عشق حقیقی ہے.” (واصف علی واصف)
عشق کیا ہے؟ عشق کمال انسانیت ، حاصل مذہب ، ایک بلند تریں تجزیہ اور انسانی تلاش کا نام ہے. انسان کا دل اگر عشق سے خالی ہو تو وہ انسان نہیں بلکہ پتھر کا بت ہے.اور اگر عشق کی طاقت کا اندازہ کرنا ہو تو وجہء تخلیق کائنات عشق ہی ہے. میں اسے کم علمی کہوں یا جہالت کے آج زیادہ تر لوگوں نے جنس مخالف کے لیے رونے دھونے اور جان کی بازی لگانے کو ہی عشق کا نام دے رکھا ہے. عشق وہ نعمت ہے جو بندے کو خدا کے قریب کر دیتی ہے. عشق مجازی ہو یا حقیقی گناہ نہیں بلکہ انعام ہے.
اللہ کے بندوں سے عشق ، عشق مجازی ہے. اور عشق حقیقی اس ذات سے عشق ہے جو زمین و آسماں کا خالق و مالک ہے. جس کا نور ذرے ذرے سے عیاں ہو رہا ہے. عشق مجازی عشق حقیقی کی منزل آسان کر دیتا ہے. عشق مجازی کے دریا میں بہنے والا کبھی نا کبھی حقیقت کے سمندر میں اتر جاتا ہے. وہ پہلی ہی جست میں عشق حقیقی کی اس منزل پہ پہنچ جاتا ہے جہاں صوفیاء سالوں کی ریاضت کے بعد بھی نہیں پہنچ پاتے.
عشق مجازی وہ بھٹھی ہے جس سے کندن بنانے کا کام لیا جاتا ہے. انسا ن جب عشق مجازی کے مراحل سے گزرتا ہے تو اسکی ایسی ٹریننگ ہوتی جو اسے عشق حقیقی کی منازل یک لخت طے کرنے میں مدد دیتی ہے. عشق مجازی سے گزرنے والا جانتا ہوتا ہے کہ محبوب کے ناز کیسے اٹھائے جاتے ہیں ، راز و نیاز کیسے کی جاتی ہے، محبوب ناراض ہو تو کیسے منا یا جاتا ہے. محبوب کے محبوب سے بھی محبت کرنی ہے. اسکے کرم کو کرم اور ستم کو بھی کرم سمجھنا ہے، یہ وہ چیزیں ہیں جو عشق مجازی کوٹ کوٹ کر بھر دیتا ہے.
بندہ جب مجازیت کی آگ میں جل کر کندن بن جاتا ہے تو پھر صرف کنکشن تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے. اور ایک شیخ کامل بغیر کسی دیر کے یہ کنکشن اس باقی ذات کے ساتھ جوڑ دیتا ہے جس کے عشق میں فنا ہو کر انسان بقا حاصل کر جاتا ہے.
اور مجازیت اصل میں حقیقت کا ہی ایک رنگ ہے. حقیقت جان بوجھ کر مجاز کے لباس میں نظر آتی ہے. بقول اقبال :
کبھی اے حقیقت منتظر ، نظر آ لباسِ مجاز میں
اقبال بھی حقیقت کو مجاز میں دیکھنا چا ہتے ہیں.

Ghazal

Ghazal

مری سبھی یہ عبادت ترے خیال سے ہے
جمال شمس و قمر بھی ترے جمال سے ہے
ہو سکے جو کبھی ممکن تو آ ، خبر خود لے
یہ دل ابھی بھی بچھڑ جانے کے ملال سے ہے
جواب کچھ بھی ہو مجھ کو غرض جواب سے نھیں
مجھے تو بس ا بھی حیرت ترے سوال سے ہے
اگرچہ بار ہا ہی ٹوٹی ہے یہ آس مری
“بہت امید مجھے آنے والے سال سے ہے”
یہ وقت سیل رواں ہی کی مثل جاری ہے
گزشتہ سے نہ ہی آ ئندہ سے ، یہ حال سے ہے
تو مجھ سے کو ئی تعلق بھی رکھ سہی شاہیں
نہ خوف ہجر ، نہ مجھ کو غرض وصال سے ہے

Uncategorized

ghazal

یہاں پہ کیوں ہو جاتا ہے اندھیرا شام سے پہلے
مجھے کرنا ہے تھوڑا سا سویرا شام سے پہلے

چمن ہم نے بسایا خون دل سے جو ، سنا ہے اب

وہاں ہوتا ہے چوروں کا بسیرا شام سے پہلے

تو نے تاخیر کر دی ، منتظر تھے کب سے ہم تیرے
گیا ہےلوٹ کے گلشن، لٹیرا شام سے پہلے
Nasar

دیسی لبرل

ہمارے معاشرے میں ایک ایسا طبقہ بھی پایا جانے لگا ہے جو دن رات روشن خیالی اعتدال پسندی اور دوسروں کی رائے کے احترام کا منجن بیچنے میں مصروف عمل ہے۔ لیکن جب آپ ان کی رائے کی مخالفت کرتے ہوئے کوئی اپنی رائے دیں گے تو پھر آپ کی خیر نہیں! ٹالک شوز میں آپ پر لعن طعن کی جائے گی۔ آپ کے خلاف کالم لکھے جائیں گے۔ حتی کہ سوشل میڈیا پہ آ پ کو گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے۔
عرف عام میں یہ طبقہ دیسی لبرل، لنڈے کے انگریز اور کالے انگریز کے ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے۔
اقبال شاہین

Ghazal

اس کو فقط لبھائے گی ہر جا صدائے گل
بلبل نے اور کچھ نہیں دیکھا سوائے گل
جس روز چمن اجڑا تھا مالی کی شہہ سے
آتی تھی یہ صدا کہیں سے ہائے ہائے گل

تم لوٹ آنا جب کبھی جی چاہے ملنے کو
میں منتظر رہوں گا تمہارا سجائے گل
اتنی سی بات پہ وہ خفا مجھ سے ہو گئے
بس پوچھا تھا خزاں میں کہاں سے ہو لائے گل
اب اور اس خدا سے کیا مانگنا مجھے
اس دور میں بھی خود ہی مرے در پہ آئے گل